
آپ کا نام علی اور والد کا نام عثمان ہے۔آپ کا سلسلہ نسب سیدنا حضرت امام حسن سے جا ملتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو الحسن ہے اور آپ کا لقب گنج بخش ہے۔ اس لقب کی وجہ کچھ یوں ہے کہ حضرت خواجہ خواجگان ،سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کچھ عرصہ آپ کے مزار پر انوار پر معتکف رہے اور آپ کے فیوض باطنی سے فیض یاب ہو کر جب الوداعی فاتحہ کیلئے حاضر ہوئے تو آپ کی زبان مبارک سے مندرجہ ذیل شعر بے ساختہ نکل آیا:
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
سلطان الہند کی زبان مبارک سے نکلا ہوا یہ لقب ''گنج بخش'' آج پورے برصغیر بلکہ پوری دنیا میں گونج رہا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں کی اکثریت آپ کے حقیقی نام سے ناوقف ہے اور آپ کو صرف گنج بخش کے نام سے جانا و پکارا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت غزنی شہر میں ہوئی اور بعد میں آپ کا خاندان ہجویر کے علاقہ میں منتقل ہو گیا جس کی وجہ سے آپ کو ہجویری بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے اپنے زمانہ کے کئی علماء و مشائخ سے علم و معرفت کا اکتساب کیا ۔ زندی کا ایک عرصہ سفر در وطن میں گزارا جس کا مقصد اللہ کے بندوں سے اکتساب فیض کرنا تھا اور اپنے نفس کو مشقت میں ڈال کی محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے مرکز الاولیاء لاہور میں علم وحکمت کے ایسے دریا بہائے کہ وہ شہر جو پہلے کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا آپ کی کوششوں سے اسلام کا قلعہ بن گیا ۔ آپ کے حسن اخلاق ، حسن کردار اور نرم گفتار سے کئی دلوں میں محبت الٰہی اور سنت مصطفی کی محبت پیدا ہو ئی۔ آپ نے تقریباً تیس سال لاہور میں قیام کیا۔ اس پورے عرصہ میں آپ نے شب و روز دین اسلام کی تبلیغ کی۔آپ کی بے داغ سیرت ، دلکش گفتگو پر نور شخصیت اور ارشادات عالیہ لوگوں کو کفر اور گمراہی کی دلدل سے نکال کر ہدایت کی راہ پر گامزن کرتے رہے۔ آپ نے لاہور میں ایک مسجد کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا اور تعمیر کے کام کے دوران خود مزدوروں کی طرح کام سر انجام دیتے رہے۔ لاہور کی یہ پہلی مسجد تھی جس کی تعمیرے اللہ کے ایک خاص بندے نے کی تھی۔ اسی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کے پیغام اور سنت رسول کی ترویج کا کام سر انجام دیا۔ جو بھی آپ کے ہاں تشریف لاتا اللہ کی محبت کے جام پی کر جاتا۔ آپ نے ساری زندگی خدا کی واحدانیت بیان کی اور اپنے مریدین و محبین کو ایک اللہ کی محبت سکھائی اور نبی اکرمۖ کے احکامات کی روشنی میں زندگی بسر کرنے کا درس دیا۔
آپ فرماتے ہیں کہ ایک روز سفر کرتا ہوا ملک شام میں موذن رسول حضرت بلال حبشی کی قبر مبارک پر حاضر ہوا وہاں میری آنکھ لگ گئی اور اپنے آپ کو مکہ معظمہ میں پایا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار دوعالم قبیلہ بنی شیبہ کے دروازے پر موجود ہیں اور ایک عمر رسیدہ شخص کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں فرط محبت سے بے قرار ہو کر آپ کی طرف دوڑا اور آپ کے مبارک قدموں کو بوسہ دیا ،دل ہی دل میں اس بات پر بڑا حیران تھا کہ یہ بوڑھا شخص کون ہے؟اتنے میں اللہ کے محبوب سرور کائنات نے فرمایا کہ یہ ابو حنیفہ ہیں اور اور آپ کے امام ہیں۔ آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں پانے پیرو مرشد حضرت ابوالفضل ختلی کے ساتھ بیت الجن سے دمشق کا سفر کر رہا تھا کہ راستے میں بارش ہو گئی جس کی وجہ سے بہت زیادہ کیچڑ ہو گیا اور ہم بہت ہی مشکل سے چل رہے تھے کہ اچانک میری نظر پیر ومرشد پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کا زیب تن کیا ہوا لباس بالکل خشک ہے اور پائوں مبارک بھی بالکل خشک ہیں ان پر کسی قسم کا کوئی کیچڑ وغیرہ نہیں تو مجھے بڑی حیرت ہوئی دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا! ہاں جب سے میں نے پروردگار عالم پر توکل کرتے ہوئے ہر قسم کے وہم و شبہ کو خود سے دور کر دیا ہے اور دل کو حرص و لالچ کی دیوانگی سے محفوظ کر لیا ہے تب سے اللہ رب العزت کی ذات مقدسہ نے میرے پائوں کو کیچڑ سے محفوظ رکھا ہے۔
آپ کے بلند پایہ حسن اخلاق اور نگاہ فیض کے باعث جو لوگ آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے، وہ نہ صرف خود تا دم واپسیں اسلام سے وابستہ رہے بلکہ ان کی نسلیں بھی تقریباً ہزار سال گزرنے کے باوجود اسلام پر قائم و دائم ہیں۔ آپ نماز کے متعلق کچھ یوں فرمایا کرتے تھے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے چاہنے والوں کی رہنمائی کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے چاہنے والوں کی طہارت توبہ ہے ۔قبلہ کی طرف منہ کرنا ان کا پیر طریقت سے تعلق ہے ، قیام ان کا مجاہدہ ہے۔ قرأت ان کا دائمی ذکر ہے۔ رکوع ان کی عاجزی ہے۔ سجود ان کے نفس کی پہچان ہے۔ تشہد ان کی اللہ تعالیٰ سے دوستی ہے۔ سلام ان کا دنیا سے علیحدگی اور مقامات کی قید سے باہر نکلنے کا پیغام ہے، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری محبت و معرفت کے ہزاروں دیے جلا کر بالآخر 19 صفرالمظفر 465 ہجری کو وصال فرما گئے۔ آپ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال 19صفر المظفر کو لاہور میں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے نقش قدم پر چل کر مخلوق کی خدمت اور اسلام کا داعی بنائے، آمین!