10-06-2026

چینی وزارت زراعت و دیہی امور اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز وفد کا دورہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل
چین کے ساتھ ہمارا تعاون تکنیکی ترقی اور پائیدار زرعی طریقوں کیلئے نئی راہیں ہموار کریگا، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ

پاکستان، چین کا اشتراک دونوں ممالک کے زرعی منظر نامے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کریگا، چیئرمین پی اے آرسی
اسلام آباد (بیورو رپورٹ) چین کی وزارت زراعت و دیہی امور اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ایک اعلیٰ سطحی 6 رکنی وفد نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اسلام آباد کا دورہ کیا۔ یہ دورہ چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کو مضبوط بنانے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس کا مقصد غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے چینی وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور پی اے آرسی کی قومی تحقیقی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر اندرابی نے جینومکس، بائیوٹیکنالوجی، لائیو سٹاک کی بہتری، پلانٹ سائنسز، زرعی انجینئرنگ، قدرتی وسائل کے انتظام، اور ویلیو چین ڈویلپمنٹ سمیت متعدد سائنسی شعبوں میں جدید اقدامات پر روشنی ڈالی۔چینی وفد سے ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے وفد کا خیرمقدم کیا اور چین کے ساتھ زرعی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سائنس پر مبنی حل کی ضرورت ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارا تعاون تکنیکی ترقی اور پائیدار زرعی طریقوں کیلئے نئی راہیں ہموار کرے گا۔ وفاقی وزیر نے این اے آر سی میں چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنسز کی طرز پر سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے پاکستان کی تحقیقی صلاحیت اور دیہی ترقی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ رانا تنویر حسین نے پاکستان کے زرعی شعبے کی مسلسل حمایت پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔چینی وفد سے ملاقات کے دوران وفاقی سیکرٹری برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، امیر امیر محی الدین نے پاکستان میں زراعت کے مستقبل کی تشکیل میں جدت اور بین الاقوامی تعاون کے اہم کردار پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، زمین کی زرخیزی میں کمی، اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی جیسے مسائل کے حل کیلئے جدت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعاون خاص طور پر چین کے ساتھ شراکت داری پاکستان کی زراعت کو جدید بنانے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کیلئے انتہائی اہم ہے۔