
اظہار رائے کی آزادی کا مطلب جھوٹی خبریں پھیلانا نہیں، فیک نیوز پر کریک ڈاؤن ہوگا،بیرون ملک بیٹھے افراد بھی بیانانات کیلئے جلد پاکستان واپس لائے جائیں گے:وزیر داخلہ
لاہور (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے افغان ہمارے مہمان تھے لیکن اب نہیں ، افغان شہریوں سے درخواست ہے عزت سے واپس چلے جائیں، ملک بھر سے افغان باشندوں کو ہر صورت واپس بھیجا جائے گا،لاہور میںصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا چند دن پہلے جن لوگوں نے ایف سی پر حملہ کیا وہ تینوں افغان نکلے، اسلام آباد کچہری میں حملہ کرنے والا بھی افغان شہری تھا، ملک میں جتنے بھی حملے ہو رہے ہیں ان میں افغان ملوث ہیں، ملک بھر سے غیر قانونی افغان باشندوں کا انخلا جاری ہے ، غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، ہر صورت غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا ہے، وفاقی حکومت کے ہر فیصلے پر عمل کرنا ہوگا،مزید دھماکے برداشت نہیں کر سکتے، خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کر رہے ہیں،واضح طور پرپتہ ہے دہشت گردی کے پیچھے کون ہے اور کون یہ کرا رہا ہے، افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کو لگام دے،خیبرپختونخوا میں افغان کیمپ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ہر ایس ایچ او کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے سے افغان شہریوں کو نکالے، جس کو بھیجا گیا اگر وہ واپس آیا تو گرفتار کرلیں گے،تین صوبوں سے غیر قانونی ا فغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا، طورخم بارڈر سے تقریباً 4لاکھ60ہزارسے زائد افغانی واپس بھیجے، خیبرپختونخوا میں صورتحال مختلف ہے، اس صوبے میں باقاعدہ طور پر غیر قانونی افغان شہریوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے، پشاور اورضلع نوشہرہ میں افغان کیمپ ڈی نوٹیفائی کیے، شمالی اورجنوبی وزیرستان میں بھی افغانی کیمپ ڈی نوٹیفائی کیے لیکن وہ اب تک آپریشنل ہیں بند نہیں کیا گیا، خیبرپختونخوا کو واضح پیغام ہے پہلے اپنے ملک کا سوچیں، پھر اپنی سیاست کریں، سب سے ضروری ہے آپ کا ملک کن مسائل کا سامنا کررہا ہے،محسن نقوی نے کہا سوشل میڈیا پر 90 فیصد خبریں غلط چل رہی ہوتی ہیں، یہ نہیں ہو سکتا جو چاہیں سوشل میڈیا پر چلا دیں، سوشل میڈیا پر غلط خبر پر کریک ڈاؤن ہوگا، نیشنل میڈیا پر غلط خبر نشر کرنے پر پیمرا کا نوٹس ہوتا ہے، جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں، اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن فیک نیوز پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،سوشل میڈیا پر کسی کی تذلیل کی اجازت نہیں دیں گے، قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کر رہا ہے اداروں میں یہ مسئلہ چل رہا ہے، اگر آپ کے پاس ثبوت ہے تو ضرور سامنے لائیں،جو لوگ باہر بیٹھے ہیں انہیں بتا دوں آپ لوگ بہت جلد واپس آرہے ہیں، بہت جلد آپ کو یہاں لائیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا،ہم ٹی وی چینلز کو کیوں غلط نہیں کہتے کیونکہ وہ ایک سسٹم کے تحت چل رہے ہیں، اگر کوئی ٹی وی چینل غلط خبر چلاتا ہے تو اس کو جرمانہ ہوتا ہے، جو فیک نیوز پھیلا نے والوں کیخلاف کارروائی ضرور ہو گی۔