
سیاسی آقاؤں کی خوشنودی، سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے،وزیراعظم نے کئی بار کہامل بیٹھ کر معاملات کو حل کرنا ہے، جب حکومت کوبلائیں گے، ہم تیار ہیں
پی ٹی آئی کا اسمبلی چھوڑ کر جانے کا فیصلہ غلط تھا، بھٹو کو پھانسی دی گئی، بے نظیر کو شہید کیا گیا، احتجاج ہوئے لیکن قیادت نے ملک کی خاطر کردار ادا کیا:اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد(بیورورپورٹ)وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے چیف آف دی ڈیفنس فورسز کے عہدے کا باضابطہ نوٹی فکیشن جلد جاری ہوجائیگا میرے اور آپ کیلئے پریشانی کی بات نہیں، آج کل لگتا ہے میڈیا کے پاس کوئی خبر ہی نہیں، یہ سرکاری پراسس کا حصہ ہے، وزیراعظم ملک میں نہیں ہیں، وزیر اعظم آجائیں گے تو سب کچھ ہوجانا چاہیے، ہوسکتا ہے فائل ورک ہوچکا ہو، وزارت دفاع کو وزیراعظم ہاؤس سے کوآرڈی نیشن کے بعد نوٹی فکیشن جاری کرنا ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت کو پہلے ہی تحفظ حاصل ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت کو نومبر2027 تک قانونی تحفظ حاصل ہے، نئی ترمیم کے بعد اکٹھی تعیناتی کا نوٹی فکیشن آئے گا،قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا جوحلف لیتے ہیں وہ ہمیں آئین اور قانون کے تحت چلنے کا پابند بناتا ہے، سیاسی آقاؤں کی خوشنودی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے، ماضی میں بھی ایسی معاملات کا خوش اسلوبی سے سامنا کیا،پی ٹی آئی کا اسمبلی چھوڑ کر جانے کا فیصلہ غلط تھا، پی ٹی آئی ایوان میں رہتی تو معاملات خراب نہ ہوتے، پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، پاکستان چلے گا تو بانی پی ٹی آئی کوبھی امید ہوگی شاید وہ دوبارہ اقتدارمیں آجائیں، گورنر راج مارشل لا کی شکل نہیں،آئینی عمل ہے، سرکاری افراد پر حملہ کرنا غیرآئینی ہے، ملک چلانے کیلئے ایسے لمحات ہوتے ہیں جب سوچنا پڑتا ہے، بھٹو کو پھانسی دی گئی، بے نظیر کو شہید کیا گیا، احتجاج ہوئے لیکن قیادت نے ملک کی خاطر کردار ادا کیا، نوازشریف کو دو بار ہٹایا گیا،سرکاری اسلحہ لیکر اسلام آباد پر حملہ آورنہیں ہوئے، پہلے بہت غلطیاں ہو چکی ہیں، آپ نے بھی کی، ہم نے بھی کی ہوں گی، ہمارے ساتھ جو ہوتا رہا ہم نے لائن کراس نہیں کی، 2024 کی بات کی جاتی ہے، 90 سے زائد پٹیشن کیں، خدارا اس ملک کا سوچیں، نئی نسل کیا سبق لے گی؟، وزیراعظم نے کئی بار کہامل بیٹھ کر معاملات کو حل کرنا ہے، دھمکیاں دینے سے ایوان فتح نہیں ہوتے، جب حکومت کوبلائیں گے، ہم تیار ہیں۔