10-12-2025

میئر کراچی کا سارے اداروں پر قبضہ، پھر بھی بچے گٹر میں گر رہے ہیں: نعیم الرحمن،ہلاکت 18 سالہ بدترین متعصب حکمرانی کا شاخسانہ ہے: ایم کیو ایم
گلشن اقبال میں نیپا چورنگی پر اتوار کی رات خریداری کیلئے آئی فیملی کا 3 سالہ ابراہیم ڈیپارٹمنٹل سٹور کے باہر کھلے مین ہول میں گر کر لاپتہ ہو گیا



خبر چلنے پر انتظامیہ غائب، امدادی کام چندہ جمع کرکے کیا گیا، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج، بولنے کی اجازت نہ ملنے پر متحدہ کا واک آؤٹ

کراچی(بیورورپورٹ)گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی نعش 15 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے مل گئی ، نیپا چورنگی پر اتوار کی رات خریداری کیلئے آئی فیملی کا 3 سالہ بچہ ابراہیم ڈیپارٹمنٹل سٹور کے باہر رات11بجے کھلے مین ہول میں گر گیا تھا،کمسن بچے کے مین ہول میں گرنے کی خبر چلنے پر انتظامیہ پراسرار طور پر غائب ہو گئی جبکہ امدادی کام بھی چندہ جمع کرکے کیا گیا،چھیپا، ایدھی اور شہریوں نے نہ صرف اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں حصہ لیا بلکہ چندہ جمع کر کے کھدائی کے لیے مشینری بھی منگوائی گئی،نعش کو دادا کے حوالے کیا گیا ،میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بچے کے مین ہول میں گر کر لاپتہ ہونے کے معاملے پر کہا ٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے، کچھ کہوں گا تو لوگ ناراض ہوں گے،صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا نیپا کے قریب کمسن بچے کے گرنے کا مقام سیوریج لائن نہیں بلکہ برساتی نالہ تھا ، سانحے پر اہلخانہ کے دکھ میں شریک ہیں، واقعے کو بدقسمتی سے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، ایسے موقع پر سیاست نہیں، مدد اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں، معاملے کو ہر پہلو سے دیکھ کر مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی،جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہامیئر کراچی نے سارے ادارے اپنے قبضے میں کر رکھے ہیں، شہر کا پرسان حال نہیں ، بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے، سندھ حکومت میں کرپشن بڑا کاروبار بن چکا ، سرپرستی کون کررہا سب کو پتہ ہے، بی آر ٹی کے ڈیزائن میں بھی مسائل ہیں، ایم کیو ایم نورا کشتی لڑتی، عوام کو بے وقوف بناتی ہے،ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے مین ہول میں گر کر معصوم بچے کی ہلاکت کے دل خراش واقعے کو 18 سالہ بدترین بدعنوان متعصب طرز حکمرانی کا شاخسانہ قرار دے دیا،ترجمان نے کہابرسوں سے کھدا ہوا یونیورسٹی روڈ حادثات و اموات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جو صوبائی اور نام نہاد مقامی حکومت کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے، متعصبانہ طرز عمل نے کبھی ڈمپر کے نیچے کچلے جانا کبھی نالوں اور کھلے مین ہولز میں گر کر مرنا کراچی کے باشندوں کے نصیب میں لکھ دیا ہے،سندھ حکومت فی الفور معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے ورثاء کی دادرسی کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنائے۔