
پشاور(بیورورپورٹ)قومی مالیاتی کمیشن کے تحت خیبرپختونخوا کا حصہ بڑھانے اور بقایاجات کے حصول کیلئے تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوگئیں،4 دسمبر کو ہونے والے این ایف سی کے اجلاس میں صوبہ کا موقف پیش کرنے کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے لیا، صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، حکومت کا موقف ہے وہ این ایف سی اجلاس میں صوبے کا حصہ 14.6 سے بڑھا کر 19.4 کرنے کا مطالبہ کریں گے ہم کوئی خیرات، بھیگ نہیں مانگ رہے ہم آئین و قانون کے تحت اپنا حق مانگ رہے ہیں،خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر بابر سلیم سواتی کی صدارت میں شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے احمد کنڈی نے تجویز پیش کی 4 دسمبر قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس ہونے جارہا ہے، معمول کی کارروائی روک پر اس پر بحث کی اجازت دی جائے جس پر اجلاس میں معمول کی کارروائی روک کر این ایف سی بحث کرائی گئی،حکومتی ارکان عبدالکریم خان، منیر حسین لغمانی، داؤد شاہ، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے خطاب کرتے ہوئے کہا این ایف سی کے تحت خیبرپختونخوا حکومت کا جو حق بنتا ہے وفاق وہ حق نہیں دے رہا، قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد خیبرپختونخوا کی شرح بڑھ چکی ہے، پہلے یہ شرح 14.4 فیصد تھی اب یہ شرح بڑھ کر 19 فیصد تک بڑھ چکی ہے، بجلی کے خالص منافع پانی کے استعمال پر بھی ہمارا حق نہیں دیا جارہا، یہ صرف تحریک انصاف کا نہیں خیبرپختونخوا کا ایشو ہے اس پر تمام سیاسی جماعتوں کو بھی آواز اٹھانی چاہیے۔