10-12-2025

2025 میں طالبان کمانڈر ارمانی کیساتھ ملاقات ہوئی،تاجوڑی میں فوجی قلعے پر فدائی کرنے کی غرض سے ریکی کرائی
5 بندے کمانڈرکے حوالے کیے،فی بندہ10ہزار روپے ملے، مشورے پر پنجاب آگیا اور پکڑ گیا :دہشتگرد قاسم



اسلام آباد (بیورورپورٹ) پاکستان میں افغان شہریوں کی جانب سے دہشت گردی پھیلانے کا منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا، تلہ گنگ سے افغان شہری کی گرفتاری ، اعترافی بیان نے افغان دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا،تلہ گنگ سے گرفتار افغان دہشت گرد نے کہا میرا نام قاسم عرف حسن ہے اور میرے والد کا نام لال خان ہے، میری قوم دلوذی اور میں افغانستان گردیزولایت کا رہنے والا ہوں، 10 سال پہلے فیملی سمیت افغانستان سے لکی مروت پاکستان میں آئے، ہم یہاں پلے بڑھے، رزق کمایا اور یہاں کے لوگوں سے بہت پیار ملا،گرفتار دہشت گرد نے انکشاف کیا سرہ درگہ میں میری 2025 میں طالبان کمانڈر ارمانی کے ساتھ ملاقات ہوئی، طالبان کمانڈر ارمانی نے مجھے جہاد کی طرف دعوت دی اور میں اس کیلئے شامل ہو گیا، پہلی دفعہ میں نے تنظیم میں 20 دن گزارے اور کمانڈر ارمانی نے مجھے فدائی کرنے کا کہا، کمانڈر ارمانی نے مجھے اور فاروق نامی ساتھی کو تاجوڑی میں فوجی قلعے پر فدائی کرنے کی غرض سے ریکی کرائی لیکن مناسب موقع نہ ملنے پر فوجی قلعے پر فدائی حملہ نہیں کر سکے،دہشتگرد قاسم عرف حسن نے بتایا کچھ عرصے بعد کمانڈر ارمانی کے مشورے پر میں تنظیم میں واپس چلا گیا، تنظیم میں کمانڈر ارمانی نے مجھے نئے لوگ تلاش کرنے کیلئے کہا، میں نے 5 بندے کمانڈر ارمانی کے حوالے کیے جن کے عوض مجھے فی بندہ 10 ہزار روپے ملے، ستمبر میں کمانڈر ارمانی کے مشورے پر پنجاب چلا گیا، پنجاب جانے کا مقصد لڑکے تلاش کرنا اور تنظیم میں شامل کرنا تھا، پنجاب میں کچھ دن گزارنے کے بعد مجھے پولیس نے گرفتار کر لیا۔