19-01-2026

سوشل میڈیا پر فوج کیخلاف پراپیگنڈہ کرنیوالوں کو اسکی قربانیوں کا اندازہ ہونا چاہیے ،پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دیگا
افواج پاکستان کی بدولت ملک آج آزاد، محفوظ اور دشمن کے ہر وار کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے قابل ہے، وفاقی وزیرکا خطاب

صدر استحکام پاکستان پارٹی اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہاہے کہ افواج پاکستان کی بدولت ملک آج آزاد، محفوظ اور دشمن کے ہر وار کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے قابل ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والوں کو قوم کی قربانیوں کا اندازہ ہونا چاہیے اور ایسی منفی آوازوں کو عوامی سطح پر مسترد کرنا لازمی ہے۔آج یہاں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کو نئے عہدے کا ملنا پاک فوج کی پیشہ ورانہ کامیابیوں اور غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہے کیونکہ اب تمام افواج کی متحدہ قیادت ان کے پاس ہے جو ملکی دفاع کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو بھارت کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت پر واضح چوٹ تھے جن کا فوج نے انتہائی جرات اور مہارت کے ساتھ جواب دیا اور دشمن کو بھرپور پیغام دیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنقید کرنیوالوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی فوج نہ ہو تو دشمن ملک اس خطے میں کس طریقے سے اپنی مرضی مسلط کرتا کیونکہ تاریخ گواہ ہے اور تقسیم سے پہلے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی پر مبنی رویہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان اپنی جانیں، اپنے مستقبل اور اپنے خاندانوں کی خوشیاں قربان کرتے ہیں تاکہ قوم اطمینان اور سکون سے زندگی گزار سکے اور اسی قربانی کے نتیجے میں آج پاکستانی شہری محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کے والدین سے پوچھا جائے کہ کوئی ماں باپ صرف چند ہزار روپے کے عوض اپنے بچوں کو قربان نہیں کرتے بلکہ یہ قربانی ایمان، وطن اور عزت کے لیے دی جاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر فوج مخالف مہم چلانے والوں کو شرم کرنی چاہیے اور نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو دشمن کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ قوم کو فخر ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے ایک لڑائی میں دشمن کے سات جہاز مار گرائے جبکہ اپنا ایک بھی جہاز متاثر نہیں ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالی نے افواج پاکستان کو عزت اور کامیابی سے نوازا ہے۔ البتہ کچھ عناصر اس حقیقت کو برداشت نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 مئی سے پہلے دنیا پاکستان کو کمزور سمجھتی تھی لیکن جھنگ میں دفاعی کامیابی کے بعد عالمی سطح پر یہ تسلیم کیا گیا کہ پاکستان ایک طاقتور اور مستحکم ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے آج عالمی رہنما بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عسکری قیادت کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی حلقے ماضی میں دعوے کرتے تھے کہ عالمی طاقتیں ان کے ساتھ آنے کے بعد حالات بدل دیں گی مگر آج وہی عالمی رہنما پاکستان کی عسکری قیادت کے کردار کو سراہتے ہیں اور اپنی تقاریر میں پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپہ سالار کسی سیاسی حکومت کے نہیں بلکہ پاکستان کے محافظ ہیں اور ان کے نزدیک سب سے پہلے ملک کی سلامتی ہے، باقی تمام چیزیں بعد میں آتی ہیں۔ انتظامی مسائل پر بھی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں ہائی کورٹ بینچ کا قیام نہ ہونا شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث ہے کیونکہ انہیں معمولی نوعیت کے کیسز کے لیے بھی دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ملک میں انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ وسطی، شمالی اور جنوبی پنجاب سمیت بلوچستان میں بھی زیادہ صوبے قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کے گھروں کے قریب میسر آ سکیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں 50، روس میں 85، افغانستان میں 34 اور ترکی میں 81 صوبے ہیں۔ لہذا پاکستان میں بھی اس نظام پر عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت، اتحادی جماعتیں اور تمام وزرائے اعلی کو اس مطالبے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو بھی شمالی، جنوبی اور وسطی حصوں پر مشتمل صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ انتظامی مسائل میں بہتری آ سکے۔وفاقی وزیر نے پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک موٹروے کو چار سے چھ لین کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس پراجیکٹ پر اگلے سال کام شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے فیصل آباد گٹ والا سے لاہور جانے والی سڑک کی جلد تعمیر کی بھی یقین دہانی کرائی۔