
شیخوپورہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر)جنرل سیکرٹری راجپوت فیڈریشن پاکستان علی رضا بھٹی نے کہا ہے کہ راجپوت برادری کے مستحق خاندانوں کے لیے خصوصی مالی امداد کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کے لیے خصوصی کاوشیں کی جائیں گی جبکہ راجپوت برادری میں برادری ازم کی بنیاد پر بچے بچیوں کے رشتوں سے پریشان ممبران کے لیے نہ صرف ان کی معاونت کی جائے گی بلکہ یتیم بچیوں کی پرورش اور شادی بیاہ کے اخراجات کے لیے بھی راجپوت فیڈریشن ایسے خاندانوں کے شانہ بشانہ ان کی ہر خوشی غمی میں شامل ہوگی اجلاس کا مقصد معزز مہمانوں کا ممبران کے ساتھ تعارف اور ان کے ساتھ میل جول بڑھانے کے لیے خصوصی نشست کا اہتمام کرنا ہے جنوبی ایشیا کی قدیم اور معزز نسلوں میں شمار کی جانے والی راجپوت برادری صدیوں سے اپنی بہادری، روایات اور عسکری صلاحیتوں کے باعث نمایاں مقام رکھتی ہے۔
تاریخی شاہد ہے کہ راجپوت قبائل کا اصل تعلق برصغیر کے شمالی اور مغربی خطوں سے رہا ہے، جہاں یہ مختلف ریاستوں اور علاقوں پر حکمرانی کرتے رہے۔1947 کی تقسیمِ ہند کے بعد راجپوت برادری کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے مختلف حصوں، خصوصاً پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں منتقل ہوئی۔ پنجاب میں راجپوتوں نے نہ صرف اپنے خاندانی نظام، دیہی روایت اور سماجی اقدار کو برقرار رکھا بلکہ مقامی معاشرت میں بھی اہم کردار ادا کیا،ان خیالات کا اظہار چئیرمین راجپوت فیڈریشن پاکستان رانا حسن رضا نے انٹرنیشنل تاریخی سیر گاہ ہرن مینار میں ماہانہ اجلاس کے موقع پر کیا اس موقع پر صدر ڈاکٹر رانا محمد اشفاق، جنرل سیکرٹری علی رضا بھٹی، سرپرست اعلی رانا اظہار الحسن، رانا ذوالفقار، رانا زاہد گاڈی، حکیم رانا ارشاد اللہ والے، رانا عظمت علی،رانا نیاز، رانا نعیم آف بیلجیم، رانا عامر لاہوری،نوید اکرم بھٹی، رانارفیع انسپکٹر مارکیٹ کمیٹی،رانا امجد،رانا فہد، ڈاکٹر جاوید اقبال، رانا سلیم انسپکٹر موٹروے رانا نصیر نمبردار،رانا شریف،ڈاکٹر رانا خضر حیات سمیت راجپوت فیڈریشن کے ممبران کی کثیر تعداد موجود تھی اجلا س سے خطا ب کے دوران رانا محمد نعیم آف بیلجیم،رانا اظہار الحسن،رانا عامر لاہوری نے کہا کہ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق راجپوت برادری اپنی روایتی شجاعت، نظم و ضبط اور وفاداری کے باعث عسکری میدان میں ایک مضبوط شناخت رکھتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر معزز مہمانوں کی شاہی بریانی سمیت لذت س بھرپور روائتی کھانوں سے تواضع کی گئی۔