17-05-2026

گوجرانوالہ میں غیر قانونی مینوفیکچرنگ یونٹ سیل کردیا گیا
بغیر لائسنس کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء تیار اور فروخت کر رہا تھا، پی ایس کیو سی اے

کمپنی گزشتہ تین برس سے اپنے لازمی سرٹیفکیشن مارک لائسنس کی تجدید میں ناکام
گوجرانوالہ (بیورو رپورٹ) ڈائریکٹر جنرل پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول کی خصوصی ہدایات پر جاری کریک ڈاؤن کے تسلسل میں، سٹینڈرڈز ڈیولپمنٹ سینٹر کنفارمٹی اسیسمنٹ آفس گوجرانوالہ نے غیر قانونی طور پر کام کرنے والے ایک مینوفیکچرنگ یونٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایم/ایس بائیوکوس انٹرنیشنل (پرائیویٹ)لمیٹڈکی پیداواری یونٹ ضبط کر لی۔پی ایس کیو سی اے کی انفورسمنٹ ٹیم نے چھاپے کے دوران انکشاف کیا کہ مذکورہ یونٹ بغیر کسی درست پی ایس کیو سی اے لائسنس کے کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء تیار اور فروخت کر رہا تھا۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ کمپنی گزشتہ تین برس سے اپنے لازمی سرٹیفکیشن مارک لائسنس کی تجدید میں ناکام رہی۔ پی ایس کیو سی اے گوجرانوالہ آفس کی جانب سے متعدد قانونی نوٹسز اور سرکاری رابطوں کے باوجود انتظامیہ نے پی ایس کیو سی اے ایکٹ 1996 کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مصنوعات تیار کرتی رہی۔کارروائی کے دوران انفورسمنٹ ٹیم نے فیکٹری کی مشینری اور احاطہ کو باضابطہ طور پر تحویل میں لے کر غیر قانونی مصنوعات کی مزید تیاری روک دی۔ اس موقع پر ’’بائیوکوس‘‘برانڈ سمیت دیگر غیر لائسنس یافتہ برانڈز کی بھاری مقدار بھی ضبط کی گئی، جو اسی فیکٹری میں تیار کی جا رہی تھیں۔ مزید برآں، انفورسمنٹ ٹیم نے موقع پر نمونے حاصل کر کے لیبارٹریوں کو ارسال کئے گئے تاکہ انکی پاکستان سٹینڈرڈز کے مطابق جانچ کی جا سکے۔ فیکٹری پر چھاپے کے بعد آج گوجرانولہ بھر میں مارکیٹ سیمپلنگ بھی کی گئی تاکہ ریٹیل مارکیٹ سے موجودہ اسٹاک کو ہٹایا جا سکے۔اس موقع پر پی ایس کیو سی اے انفورسمنٹ ٹیم نے واضح کیا کہ سیدہ ضیاء بتول، ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے سخت ہدایات کے مطابق انسانی صحت سے متعلق مصنوعات کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اورپی ایس کیو سی اے کا مینڈیٹ ہے کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی ہر مصنوعات مقررہ حفاظتی اور معیاری تقاضوں پر پورا اترے۔ بغیر لائسنس یا طویل عرصے سے لائسنس کی تجدید نہ کرانے والے یونٹس نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ صارفین کی صحت کیلئے بھی سنگین خطرہ ہیں۔اس ضمن میں ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے نے تمام مینڈیٹری اشیاء تیار کرنے والے صنعتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی رجسٹریشن اور قومی معیار پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی، بھاری جرمانوں اور یونٹس کی مستقل بند کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔