
ممتاز شاعر سید محمود بسمل کا نام ادبی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔وہ ناقدان سخن اور ادب پرور حلقوں میں اپنی حیثیت منوا چکے ہیں۔''آئنے میں سراب''ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ اردو ادب میں روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے لئے نئے راستے کا انتخاب کرنے اور نئی ادبی جہتوں کی دریافت سید محمود بسمل کا یہ شعری مجموعہ ایک تسلسل ہے۔سید محمود بسمل اہل علم،دانشور، شاعر اور قلم کار ہیں۔انہوں نے شاعری میں جہد مسلسل سے توانا فکر،خوبصورت اور لطیف احساسات کو شاعری میں جس انداز میں ڈھالا ،اس سے اخذ کرنا دشوار نہیں کہ وہ اپنے فن کو برتنے اور خیال کو لفظوں میں سمونے کا بخوبی ہنر رکھتے ہیں۔ان کے شعری مجموعہ''آئنے میں سراب'' میں شامل غزلیں ان کی فنی پختگی، تازہ کاری اور شگفتگی کا مظہر ہیں۔ان کی شاعری میں ندرت خیال،جذبات اور احساسات کی شدت اور روانی ان کی شاعری کے وصف کو نمایاں کرتی ہیں۔سید محمود بسمل دہائیوں سے اپنی قلم اور شاعری کے ذریعے ادب کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں۔ شاعری پر مشتمل یہ سید محمود بسمل کی پہلی کتاب ہے۔جسے علمی و ادبی حلقوں میں مناسب پذیرائی ملی ہے۔چند دن قبل سید محمود بسمل تشریف لائے اور اس کتاب کا ایک نسخہ ہمیں بھی بطور تحفہ دیا۔بسمل صاحب کے پہلے شعری مجموعہ''آئنے میں سراب'' پر سوشل میڈیا پر تبصرے ہوئے۔ناقدین ان کے فن کو''شاعری کا وین گوگ ''کہتے ہیں۔کیوں کہ وہ جذبات اور رنگوں کی آمیزش سے ایسی تصویریں تخلیق کرتے ہیں۔جو پڑھنے سے محسوس ہوتی ہیں۔
دراصل ان کی شاعری وجودی کرب،روحانی گہرائی، اندرونی تضادات،محبت اور انسانی درد کے موضوعات پر گہری گرفت رکھتی ہے۔ظاہری دنیا کی تلخیوں کو اندرونی تخیل کے آئینے میں سید محمود بسمل نے شاعری کے ذریعے جس انداز میں اتارا ہے اس کی مثال نہیں۔سید محمود بسمل کاشمار اردو کے بہترین شعرا میں ہوتا ہے۔''آئنے میں سراب''ان کی عمر بھر کی فکری، روحانی اور تہذیبی کاوشوں کا نچوڑ ہے۔سید محمود بسمل کی شاعری کا مرکزی جوہر محبت،ایثار،وفاداری اور انسانی اقدار ہیں۔وہ روایتی اردو غزل کی مضبوط بنیاد پر کھڑے ہو کر عصری تلخیوں، زندگی کی حقیقتوں اور اندرونی کشمکش کو بیان کرتے ہیں۔ان کی شاعری میں ایک طرف کلاسیکی غزل کی روانی،لفظیات کی خوب صورتی اور فنی پختگی نظر آتی ہے۔تو دوسری طرف فکری سنجیدگی اور جذباتی توازن بھی موجود ہے۔ناقدین کے مطابق وہ نہ تو مکمل طور پر روایت کے اسیر ہیں اور نہ ہی جدیدیت کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔سید محمود بسمل کی شاعری میں ظاہری دنیا کی تلخیوں کے باوجود ایک گہری روحانی کشش اور ایک امید کی کرن موجود ہے۔ان کی شاعری میں محبت کوئی سطحی جذبہ نہیں بلکہ ایسی قوت ہے جو ایثار اور وفاداری سے جڑی ہوئی ہے۔وہ انسانی رشتوں کی گہرائی ،درد اور تسلی کو بڑی نفاست سے بیان کرتے ہیں۔ان کے کلام میں عصری شعور کی جھلک نمایاں ہے۔جو آج کے دور کی نفسیاتی اور سماجی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہے۔میں سمجھتا ہوں ''آئنے میں سراب''سید محمود بسمل کا ایک ایسا ادبی کارنامہ ہے جو ان کے شاعرانہ،فنکارانہ کردار کو اجاگر کرتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کے صحافتی اور کالم نگاری سے بھی بڑھ کر یہ کتاب ان کیلئے بلند پایہ اعزاز ہے۔
سید محمود بسمل کی کتاب''آئنے میں سراب''ایک ایسا اعزاز ہے جو ان کی عمر بھر کی ریاضت کا ثمر ہے۔سید محمود بسمل کی ادبی خدمت اور ادبی جدوجہد کا یہ کتاب ایک تسلسل ہے۔جو ان کی ادبی خدمات اور جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے۔شاعری اور ادب سے لگاؤ رکھنے والوں کیلئے یہ کتاب بیش قیمت دستاویز ہے۔کیوں کہ ان کی شاعری قاری کے دل کو چھوتی ہے اور دماغ کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔اگر آپ اردو غزل کے جدید اور معنی خیز رنگ کو دیکھنا چاہتے ہیں تو سید محمود بسمل کا شعری مجموعہ ''آئنے میں سراب''ضرور خرید کر پڑھیں۔کیوں کہ میں سمجھتا ہوں ان کا تازہ شعری مجموعہ''آئنے میں سراب''کی اشاعت شاندار آغاز ہے اور سید محمود بسمل کی اس بے مثل کاوش پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔شاعری انسانی جذبات، خیالات، مشاہدات اور سماجی حقائق کا لطیف اور مرصع اظہار ہے۔ جب کوئی شاعر اپنے دل کی باتیں لفظوں میں پرو کر قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ تو وہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک مکمل فن پارہ ہوتا ہے۔ جس میں تخیل، اسلوب، زبان، وزن، بحر، استعارے، تشبیہات اور فکر کی گہرائی موجود ہوتی ہے۔سید محمود بسمل کا شعری مجموعہ''آئنے میں سراب''ان کے مشاہدات، تجربات، احساسات و جذبات کا غماز ہے۔سید محمود بسمل میرے آبائی ضلع حافظ آباد کی دھرتی کا ایسا سرخیل ہے۔ جس نے صحافت اور شاعری میں اپنے کردار و عمل سے نہ صرف شناخت پائی بلکہ علمی،ادبی،صحافتی خدمات پر بے شمار اعزازات اپنے سینے پر سجائے۔ آخر میں ان کے شعری مجموعہ کلام سے چند اشعار قارئین کی نذر :
خزاں کے خشک پھولوں پر، پکڑ کر تتلیاں رکھنا
کسی کی یاد میں رہنا،لبوں پر سسکیاں رکھنا
سنا ہے آپ کی پوروں سے جیون رس ٹپکتا ہے
ہماری ڈوبتی نبضوں پہ اپنی انگلیاں رکھنا
چڑھ کے نیزوں پہ ہمیں شام تک جانا ہے
ہم تو دھوکے سے ہیں کربل میں بلائے ہوئے لوگ
خواب کوئی نہیں دیکھا کھبی،ہم ہیں بسمل
نیند کو ترسے،مسلسل ہی جگائے ہوئے لوگ