05-06-2026

مفتی الیاس رضوی قرآن و سنت کے عظیم داعی تھے: اشرف جلالی
مرکز صراط مستقیم لاہور میں مرحوم کی یاد میں تعزیتی اجلاس ہوا اور ان کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی

لاہور (وقائع نگار خصوصی) جامعہ نضرة العلوم کراچی کے بانی، مہتمم، شیخ الحدیث اور تنظیم المدارس پاکستان کے مرکزی رہنما مفتی الیاس رضوی وفات پا گئے۔ گزشتہ دن ان کی نمازِ جنازہ کر دی گئی اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مرکز صراط مستقیم لاہور میں انکی یاد میں تعزیتی اجلاس ہوا اور ان کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ بانی ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شیخ الحدیث مفتی الیاس رضوی قرآن و سنت کے عظیم داعی تھے۔ وہ عظیم فقیہ اور ممتاز ماہر تعلیم تھے۔ انہوں نے علم و حکمت کا نور بانٹتے ہوئے اپنی زندگی بسر کی۔
انہوں نے عوام الناس کی رہنمائی کیلئے مستند فتاویٰ جاری کئے۔ بغداد شریف عراق میں 1993 / 1994ء میں بندہ ناچیز اور مفتی الیاس رضوی مرحوم اکٹھے پڑھتے رہے۔ آپ بڑے بردبار، عاجز مزاج، پابند شریعت اور علم دوست تھے۔ آپ کا شمار ملک کے عظیم اہل علم میں ہوتا تھا۔ آپ نے جامعہ نضرة العلوم کے پلیٹ فارم سے بہت سے علماء تیار کئے۔ تعزیتی اجلاس میں مفتی سید عمار بخاری جلالی، مفتی شہباز الحسنی سواگی، مفتی کلیم اللہ رضوی، علامہ احسان اللہ جلالی، مفتی عبد العلیم قادری، مفتی معین جلالی، مفتی عبد الستار جلالی، علامہ زین العابدین جلالی، علامہ عبدالوحید نقشبندی، علامہ اویس رضوی، علامہ محمد علی حسین قادری، علامہ سیف الرحمن سیفی، علامہ شاہ نواز سواگی، علامہ اسحاق جلالی سمیت کثیر تعداد میں علماء و عوام نے شرکت کی۔