
رپورٹ میں سی سی ڈی کے قیام کے خلاف درخواست خارج کرنے کی بھی استدعا
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ میں سی سی ڈی کے قیام کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے مبینہ پولیس مقابلوں اور زیر حراست ملزمان پر تشدد سے متعلق جامع رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے کیس کی سماعت کی۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے سی سی ڈی کے قیام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ 2022ء سے لیکر 30اپریل 2026ء تک کے عرصے پر مشتمل ہے، جس کے مطابق ملک بھر میں مبینہ پولیس مقابلوں اور زیر حراست ملزمان پر تشدد کے مجموعی طور پر 364انکوائری کیس سامنے آئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان واقعات کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کے خلاف 52مقدمات درج کئے گئے۔صوبہ وار تفصیلات کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ 266انکوائریاں موصول ہوئیں، جن میں سے 19مقدمات درج کیے گئے، اسلام آباد میں 15انکوائریوں میں سے 6مقدمات درج ہوئے جبکہ خیبرپختونخوا میں 48انکوائریوں کے نتیجے میں 6 مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔بلوچستان میں 2انکوائریاں سامنے آئیں اور دونوں پر مقدمات درج ہوئے تاہم سندھ میں پولیس اہلکاروں کے خلاف 33انکوائریاں ہوئیں جن میں سے 19 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ سی سی ڈی کے قیام کے خلاف دائر درخواست کو خارج کیا جائے۔ عدالت نے مزید کارروائی کیلئے سماعت جون کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔