
لاہور(قمر عباس نقوی )ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد کا غیر قانونی اقدام ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وقف پراپرٹی کے کرایہ دار کو درختوں کی کٹائی کرنے کی اجازت دینے کا انکشاف ،پی ایچ اے زون ٹو انتظامیہ کا معاملہ کو رفع دفع کرتے ہوئے نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔اوقاف پنجاب و مذہبی امور کے بادشاہی مسجد زون کے ایڈمنسٹریٹر کا ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی منصوبہ بندی کا انکشاف کیا گیا ہے مسجد کی پانی والی ٹینکی کے احاطہ کی پراپرٹی کو کمرشل نقل و حرکت کے لئے کرایہ پر دیا گیا جس پر سالہا سال سے سر سبز درخت لگے ہوئے تھے جس پر کرایہ دار کی جانب سے کاروبار میں رکاوٹ کا بتایا گیا جس پر مبینہ طور پر ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد کی جانب سے د رختوں کو کاٹنے کی اجازت دی گئی جس پر 2 درختوں کو مکمل اور 3 درختوں کے بڑے ٹہنے کاٹے گئے جو کہ ہائی کورٹ کے احکامات اور پنجاب ڈویلپمنٹ آف سیٹزن ایکٹ 1976کے سیکشن 32,33 کی خلاف ورزی اوقاف ایڈمنسٹریٹر کی اجازت سے مبینہ طور پر کرایہ دار کی جانب سے کی گئی ۔ذرائع کے مطابق ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد کی جانب سے تعمیر کی خاطر والڈ سٹی کو این او سی کی خاطر لیٹر بھی لکھا گیا جس پر اعتراض لگادیا گیا ہے اوقاف انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی اقدام پر متعلقہ کرایہ دار کے خلاف برائے نام نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا جس پر ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے کسی قسم کی عملی کارروائی نہیں کی جا سکی جبکہ پی ایچ اے زون نمبر 2انتظامیہ کی جانب سے درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر محکمہ اور کرایہ دار کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرواتے ہوئے کاغذی کارروائی تک محدو رکھا گیا ہے ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد شاہد حسین ورک کو درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور کرایہ دار کو اجازت دینے کے حوالہ سے موقف لینے کی خاطر رابطہ کیا انہوں نے موقف نہیں دیا۔